نئی دہلی، 28؍جولائی (ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ، آئندہ 3اور 4؍اگست کو ہونے والے سارک کانفرنس میں حصہ لینے کے لیے پاکستان جائیں گے۔واضح رہے کہ وزیر داخلہ کا یہ دورہ ایسے وقت میں مزید اہم ہو جاتا ہے جب کشمیر میں موجودہ حالات کو لے کر پاکستان حکومت کی جانب سے کافی اشتعال انگیز بیانات آ رہے ہیں۔ہندوستان اس کانفرنس میں اس لیے بھی حصہ لے رہا ہے، کیونکہ اگر ایک بھی رکن اس اجلاس میں موجود نہیں ہوتا ہے تو اسے منسوخ کر دیا جائے گا۔ہندوستان نہیں چاہتا کہ پاکستان کے ہاتھ ایسی کوئی وجہ آئے اور پڑوسی ملک کو ہندوستان کی سنجیدگی پر سوال اٹھانے کا موقع ملے۔معلومات کے مطابق، ہندوستان اس اجلاس میں دہشت گردی کے معاملے کو اٹھانے والا ہے تاکہ پاکستان پر دباؤ بنایا جا سکے۔بدھ کو ہی کشمیر وادی میں لشکر طیبہ کے زندہ پکڑے گئے دہشت گرد سیف اللہ سے پوچھ گچھ سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ وادی میں کشیدگی پھیلنے کے لیے پاکستان فدائین دستے بھیج رہا ہے۔سارک اجلاس میں ہندوستان زندہ پکڑے گئے دہشت گردوں کی معلومات بھی شیئر کرے گا۔ساتھ ہی ہندوستان کا مقصد رکن ممالک کو اس بات کی معلومات دینا بھی ہے کہ وہ دہشت گردی کے مسئلے کو لے کر پاکستان سے تعاون کر رہا ہے، پھر وہ وزیر اعظم نریندر مودی کا پاکستان جاکر نواز شریف سے ملاقات کرنا ہو یا پھر پٹھان کوٹ حملے کے بعد آئی ایس آئی کی ٹیم کو جانچ کے لیے ہندوستان آنے کی اجازت دینا ۔اس کے باوجود پاکستان کی جانب سے مناسب تعاون حاصل نہیں ہو پا رہا ہے۔ہندوستان نے پاکستان پر گزشتہ چند ہفتوں میں کشمیر میں ہوئے تشدد کو بھڑکانے کا الزام لگایا ہے۔حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی موت کے بعد کشمیر میں شہریوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان کافی کشیدگی کا ماحول دیکھا جا رہا ہے۔تشدد میں ابھی تک 45سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں اور 3000افراد زخمی ہوئے ہیں۔پاکستان نے وانی کو ایک ’شہید‘قرار دیا ہے اور ہندوستان پر وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے ساتھ ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کا الزام لگایا ہے۔گزشتہ ہفتہ پاکستان کے اس بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کو خبردار کیا کہ کشمیر کو پاکستان بنانے کا ان کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو پائے گا۔